مسئول جدیدخانه فرهنگ|درباره ما‎|صفحه اصلی|ايران|اسلام|زبان و ادبيات فارسی|تماس با ما|پيوندها|نقشه سايت
اخبار > انقلاب اسلامی ایران اور اسکے درخشاں ثمرات


  چاپ        ارسال به دوست

اخبار

انقلاب اسلامی ایران اور اسکے درخشاں ثمرات

Normal 0 false false false EN-US X-NONE AR-SA

ایران ترقی کی شاہرا پر

آج ایران دنیا کے ان چار ترقی یافتہ ملکوں میں کی صف میں شامل ہو چکا ہے جو ایک ایٹمی عنصر اسفنجی زیرکونیوم پیدا کرنے کی ٹیکنالوجی کے ساتھ یورینیم کی افزودگی کی ٹیکنالوجی پر مکمل دسترسی حاصل کر چکا ہے۔اسی طرح جسم کے بنیادی خلیوں کی پیدائش پر دسترسی،طرح طرح کے ٹیکے یا ویکسینیشن تیار کرنے میں خود کفالت اور گردے کی پیوند کاری کے عمل میں دنیا کے ترقی یافتہ ترین ملکوں کی صف میں شمولیت بتاتی ہے کہ ایرانی جوان علم اور ٹیکنالوجی کی آخری چوٹیوں کو سرکرنے پر پوری طرح کمربستہ ہیں۔ڈیموں کی تعمیر و توسیع اور دوسرے ملکوں میں فنی اور آبادیاتی خدمات میں بھی آج ایران دنیا کا چوتھا ملک شمار ہوتا ہے جو ایرانی مسلمانوں کی علمی و فنی کی ارتقاء کا ایک زرین باب ہے۔چھوٹے بڑے ہر قسم کے ہیلی کوپٹر اور ہوائی جہازوں کی تیاری اور،کوثر،فجر تین،شہاب تین اور دونور،اسکیڈبی،ذوالفقار تہتر،فاتح 110 اور تھری زیڈ( z ۔3 ) قسم کے میزائل،آواز کی رفتار سے زیادہ تیز تارپیڈو،کندھے پر رکھ کر ساحل سے سمندر میں مارے جانے والے میزائیل ایف ایل،تین سو ناٹ کی رفتار سے حرکت کرنے والی فلائنگ بوٹس اور اسی طرح پائیلٹ کے بغیر اڑنے والے مختلف الاقسام جہازوں کی خود کفالت کی حد تک تیاری ایرانی ماہرین و محققین کی بہترین کارکردگی کو نمایاں کرنے کے لئے کافی ہیں اور علمی دنیا میں اسلامی جمہوریۂ ایران کی ترقی اور پیشرفت کو نمایاں کرتے ہیں۔

انقلاب کے درخشاں ثمرات

شاہ کی طرف سے خریدے گئے مغربی ہتھیاروں کے متروک ہونے کے بعد سے، تہران روس، چین اور شمالی کوریا سے نئے ہتھیار حاصل کر رہا تھا۔ انقلاب کے بعد ایران سپاہ پاسدارانِ انقلاب کی بحری شاخ کی اہلیت میں بھی توسیع کر رہا ہے اور اس نے اضافی بارودی سرنگيں بچھانے کی صلاحیت حاصل کرنے کے علاوہ اپنے پرانے جہازوں میں سے کچھ کو اپ بھی گریڈ کیا ہے۔ ایران نے اپنے فضائی دفاع اور بندرگاہوں کو بھی مضبوط بنایا اور بعض ممالک سے کچھ لوجسٹک اور تکنیکی معاونت حاصل کی۔ جہاں تک اہم نئے ساز و سامان کا تعلق ہے تو ایران اپنی بحریہ کو روسی کيلو کلاس کی آبدوزوں اور چین سے 10 ہودونگ برق رفتار کشتيوں سمیت دیگر آلات سے مسلح کر رہا ہے

 رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم کمانڈر کے فرمان پر ایرانی دفاعی ماہرین کی مقامی سطح پر تیار کردہ جماران ڈسٹرائر ون کو ۲۰۰۹ میں پیش کیا اور باقاعدہ طور پر ایرانی بحری بیڑے میں شامل کردی گئی ہے۔ایرانی بحریہ کے دفاعی ماہرین نے جماران ڈسٹرائر تیار کرنے کے بعد اپنی تحقیقاتی کاوشوں کا سلسلہ جاری رکھا  اور وہ سہند نامی پیشرفتہ ڈسٹرائر تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے سہند ڈسٹرائر نے خلیج فارس اور عالمی سمندر میں اپنا کام باقاعدہ شروع کردیا ہے ۔ سہند ڈسٹرائر میں پیشرفتہ وسائل سے استفادہ کیا گیا ہے ۔

 

 دسمبر 2014 میں ايرانی بحریہ نے زمینی فوج اور فضائیہ کے ساتھ مل کر مشترکہ مشقيں کيں۔ بحری مرحلہ خلیج عدن اور خلیج فارس سے لے کر شمالی بحر ہند کے ایک وسیع علاقے پر مشتمل تھا۔ نئے اینٹی شپ، برقناطیسی قوت اور صوتیات بحری بحری بارودی سرنگيں بچھانے کے نظام سمیت "فاتح" آبدوز کو ٹیسٹ کیا گیا۔

بہرحال انقلاب اسلامی کا شاندار کارنامہ رہا ہے کہ آج دنیا کے تیرہ بہترین ڈسٹرائر بنانے والوں میں ایران کا نام بھی چمکتا دمکتا دکھایی دیتا ہے۔

 

 فایٹر اور جدید طیارے

جنگ عظیم دوم کے بعد دنیا کے صرف چند ممالک ہی جنگی طیاروں کی ساخت پر مہارت اور اجارہ داری رکھتے تھے جنمیں امریکہ، روس اور سویڈن وغیرہ شامل ہیں۔

ایران میں انقلاب اسلامی سے پہلے شاہ ایران تمام ہتھیار دیگر ممالک سے خریدتے تھے اور حتی بعض جنگی جہاز جو خریدے گیے تھے انکی نگہداری بھی امریکی ماہرین کررہے تھے۔

انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد ایران نے مقامی طور پر ان جہازوں کی تیاری پر کام شروع کیا اور

چوتھی جنریشن کے "کوثر" طیارے کی رونمائی تہران میں قومی دفاعی صنعت کی نمائش کے دوران کی گئی جس میں ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی شرکت کی۔

ایران کے سرکاری ٹی وی پر دکھائی جانے والی تصاویر میں حسن روحانی کو جہاز کے کاک پِٹ میں بیٹھا دیکھا گیا۔

سرکاری ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ "کوثر طیارہ مکمل طور پر مقامی سطح پر تیار کیا گیا ہے، جس میں ایڈوانس ایویونِکس اور کئی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ریڈار کی ٹیکنالوجی بھی شامل ہے۔

جہاز کی عوامی سطح پر رونمائی کے بعد ایرانی صدر کا عوام سے خطاب میں کہنا تھا کہ "جب میں دفاع کے لیے تیار رہنے کی بات کرتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دیرپا امن چاہتے ہیں، جبکہ اگر ہم تیار نہ ہوئے تو یہ جنگ کے استقبال کے مترادف ہوگا۔"

ان کا کہنا تھا کہ "اگر ہم نے مزاحمت نہ کی تو یہ دوسروں کے لیے ہمارے ملک میں داخل ہونے کا گرین سگنل ہوگا۔"

حسن روحانی نے ملک کے علاقائی حریفوں اور امریکا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں قوت مزاحمت کا مظاہرہ کرنا ہوگا، کیونکہ کسی ملک کے چند جملوں سے لڑائی شروع ہوسکتی ہے اور چند فوجی اقدامات تصادم کی صورتحال اختیار کر سکتے ہیں لیکن یہ قدم اٹھانا مہنگا ہوگا۔"

بہرحال آج ایران دنیا کے ان چند گنے چنے ممالک میں شامل ہے جو مقامی طور پر جدید ترین طیارے تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

معروف عالمی ادارے "سایمگو" یعنی  Scimgo Journal and country Rank نامی ادارے کی 1996ء سے 2015ء تک رپورٹ کے مطابق سائنس و ٹیکنالوجی میں ایران، دنیا میں 53 ویں نمبر سے  16 ویں نمبر  پر آگیا ہے۔
ایٹمی انرجی کے شعبے میں 83 ویں نمبر سے 11  نمبر پر آگیا ہے
نانو ٹیکنالوجی میں  57 سے 16 ویں نمبر پر آگیا ہے
بائیو ٹیکنالوجی میں 56 سے 14 ویں نمبر پر آگیا ہے
ائیر و اسپیس میں  43 سے 11 ویں نمبر پر آگیا ہے
میڈیکل کے شعبے میں 54 سے 19 ویں نمبر پر آگیا ہے
کیمسٹری میں  48 سے 11 ویں نمبر پر آگیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران 2017ء میں نئی ایجادات کرنے والے 25 ممالک میں سے پہلے نمبر پر آیا ہے اور اسکی ترقی کی شرح 8.9 فی صد تھی۔ مختلف علمی موضوعات پر تحقیقی مقالات اور علمی پیپرز لکھنے کے حوالے سے سایمگو نے 2017ء میں جو رپورٹ پیش کی تھی، اس میں فزکس اور اسٹرانومی میں ایران مغربی ایشیا میں اول اور دنیا میں تیرہویں نمبر پر آیا ہے۔

ایران گذشتہ بیس سالوں میں سات اسلامی ملکوں میں نئی سائنسی ایجادات کے حوالے سے سرفہرست رہا ہے، ان سات اسلامی ملکوں کا دنیا کے پچاس اسلامی ممالک کی یونیورسٹیوں میں سے انتخاب کیا گیا تھا۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں دنیا کے بیس ممالک میں ایران کا 16 واں نمبر ہے۔ مختلف علمی مقالات، سائنس و ٹیکنالوجی میں ایجادات اور جدید تھیوریز پیش کرنے کے حوالے سے ایران نے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ ایران کے ریسرچ اسکالرز گذشتہ بیس سالوں میں انقلاب سے پہلے کی علمی پیشرفت  کے مقابلہ میں 50 گنا زیادہ تحقیقی کام اور ریسرچ جرنلز میں اپنے مقالات شائع کروا چکے ہیں۔ نیچر انڈکس نامی معروف انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق ایران نے گذشتہ عشرے میں سائنس و ٹیکنالوجی کے تحقیقی میدان میں 22 فی صد سالانہ ترقی کی شرح سے دنیا کے مختلف ممالک میں سب سے زیادہ ترقی کی ہے۔ انجینرنگ کے شعبے میں ایران کی علمی پیشرفت دوسرے تمام ممالک کی نسبت زیادہ ہے۔ ایران نے سائنس و ٹیکنالوجی کے جدید شعبہ جات من جملہ بائیو، نانو، ریکور ایبل انرجی، ائیرو اسپیس، مائیکرو الیکٹرانک اور اسٹیم سیلز میں قابل ستائش ترقی کی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں موجود نانو ٹیکنالوجی کے حوالے سے 5۔7 فیصد سائنسی تحقیقات ایران کے پاس ہیں۔

Normal 0 false false false EN-US X-NONE AR-SA

توانایی کے شعبے میں ترقی

کسی بھی ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے میں توانائی بنیادی حیثیت رکھتی ہے یہی وجہ ہے اس شعبے کی ترقی کیلئے ہر حکومت ترجیحی بنیادوں پر حکمت عملی ترتیب دیتی ہے ۔

توانائی کسی بھی معیشیت کے جسم میں دوڑتے ہوئے لہو کی حیثیت رکھتی ہے جسکی فراہمی کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔ توانائی کے حصول کیلئے دستیاب وسائل سے استفادہ کرنا اب بڑی حد تک ٹیکنالوجی کا مرہون منت ہے۔ مؤثر منصوبہ بندی ہر ملک کی صورتحال پر منحصر ہے مگر اس حوالے سے ٹیکنالوجی پر ترقی یافتہ اور مغربی ممالک کو ہی دسترس حاصل ہے۔

انقلاب اسلامی سے پہلے ایران اس شعبے میں عقب ماندہ ممالک میں شمار کیا جاتا تھا اور ایران کے صرف چار ہزار گاوں بجلی سے مستفید ہوتے تھے مگر انقلاب کے بعد اس شعبے میں ایران نے حیرت انگیز طور پر ترقی کرنا شروع کیا اور آج ایران کے ننانوے فیصد لوگ بجلی سے مستفید ہوتے ہیں جبکہ ایران کے ۵۲ ہزار گاوں آج دور دراز علاقوں میں بجلی سے مستفید ہورہے ہیں، نہ صرف بجلی بلکہ گیس کے شعبے میں بھی ایران دنیا کے تین بہترین ممالک میں شمار ہوتا ہے اور ایران کا ہر گاوں بجلی اور گیس کی نعمت سے لطف اٹھا رہا ہے۔

 

کیمونیکیشن ٹیکنالوجی

ٹیلی کمیونیکیشن ملک کے لیے ایک انتہائی نمایاں پیشرفت کی علامتوں میں سے ایک جانا جاتا ہے اور آج اس شعبے میں دنیا عجیب وغریب سہولیات سے فایدہ اٹھا رہے ہیں۔

ایران میں انقلاب اسلامی کی کامیابی سے پہلے گیس و بجلی کی طرح دیہاتی علاقے ٹیلفون کی سہولت سے بھی محروم تھے اور مجموعی طور پر ملک میں آٹھ سو پچاس ہزار فون کے خطوط موجود تھے ۔ مگر انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد ایران نے دیگر شعبوں کی طرح اس فیلڈ میں بھی ترقی کے منازل طے کرنا شروع کیا اور آج ایران میں تیس ملین لینڈ لاین کے ٹیلی فون موجود ہیں ، انقلاب سے پہلے ایران کے تین سو بارہ گاوں میں ٹیلی فون کی سہولت موجود تھی تاہم آج ایران کے ۴۸ ہزار گاوں اس سہولت سے فایدہ اٹھا رہے ہیں، ملک میں اس وقت ۷۴ ملین موبایل فون کام کررہے ہیں اور اس حوالے ایران دنیا کے ۲۲بہترین ممالک کی صف میں شامل ہوچکا ہے اور آج ایران کے ہر دور دراز علاقوں میں ایرانی فون اور تیز رفتار انٹرنیٹ سے استفادہ کررہے ہیں۔

Normal 0 false false false EN-US X-NONE AR-SA

ایران دنیا کے طاقتور ترین ممالک میں شامل

امریکی ادارے ھڈسن Institue Hudsunنے ایک تازہ رپورٹ میں اسلامی جمہوریہ ایران کو دنیا کا ساتواں طاقتور ترین ملک قرار دیا ہے ۔

امریکی ویب سائٹ یو ایس نیوز، انگلینڈ کی بزنس انسایڈر Business Insider نے بھی دنیا کے طاقتور ترین ممالک کی فہرست جاری کی ہے جس میں اسلامی جمہوریہ ایران  کو 13طاقتور ترین ممالک میں شامل کیا ہے۔

 امریکی خبررساں ویب سائٹ یو ایس نیوز نے دنیا کے طاقتور ترین ممالک کی فہرست جاری کی ہے جس میں پاکستان کو 20 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے جب کہ امریکا سرفہرست ہے۔

سروے میں لیڈرشپ، معاشی اثر، سیاسی اثرورسوخ، بین الاقوامی مضبوط تعلقات اور مضبوط عسکری اتحاد جیسے پانچ عناصر کو بھی مدِ نظر رکھا گیا ہے۔

امریکن انٹرسٹ میگزین جو دنیا کے اہم دانشور فوکویاما کی زیر نگرانی کام کررہا ہے اس کے بانی کے مطابق وہ یہ تصور کررہا تھا کہ کیمونزم کی شکست کے بعد امریکہ دنیا کا سپرپاور اور لبرلزم بہترین نظام بن چکا ہے اور یہ تاریخ کی انتہا ہے مگر انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد فوکو یاما سمیت دیگر دانشوروں کا خیال بدل چکا ہے وہ انقلابی ایران کو دنیا کی اہم طاقتوں میں شامل کرکے یہ مان چکا ہے کہ انقلاب اسلامی لبرلزم اور امریکہ سمیت عالمی قوتوں کے مقابلے میں چلینج بن چکا ہے۔

مذکورہ ادارے امریکہ، چین، جاپان، روس جرمنی اور ہندوستان کو کے بعد ایران کو دنیا کا طاقتور ترین ملک مان چکے ہیں۔

 

 


١٦:٢٨ - 1397/11/12    /    شماره : ٧٢٣٣٤٠    /    تعداد نمایش : ٢٤١


امتیازدهی

خروج




منو اصلی
آمار بازدید
 بازدید این صفحه : 126865 | بازدید امروز : 11 | کل بازدید : 622460 | بازدیدکنندگان آنلاين : 1 | زمان بازدید : 4.7743