مسئول جدیدخانه فرهنگ|درباره ما‎|صفحه اصلی|ايران|اسلام|زبان و ادبيات فارسی|تماس با ما|پيوندها|نقشه سايت
اخبار > کتبہ بیستون؛ ایران میں دنیا کا سب سے بڑا کتبہتاسوعاو عاشورای حسینی تسلیت باد


  چاپ        ارسال به دوست

اخبار

کتبہ بیستون؛ ایران میں دنیا کا سب سے بڑا کتبہتاسوعاو عاشورای حسینی تسلیت باد

صوبہ کرمانشاہ 24434مربع کلومیٹر پرمحیط،ایران کے مغرب میں واقع ہے. یہ صوبہ ایران کی قدیم تہذیب کا گہوارہ رہا ہے جو آج بھی تاریخی،تہذیبی اور سیاحتی مقامات کے حوالے سے ملک بھر کے مشہور علاقوں میں شمار ہوتا ہے.
کرمانشاہ کے اہم تاریخی اور سیاحتی مقامات میں سے ایک کتبہ بیستون ہے جو ایک پہاڑی میں پتھروں پر تراشے گئے خطوط پر مشتمل ہے اور اس میں ہخامنشی بادشاہ "داریوش کبیر" کی "گوتاماگ" پر کامیابی کی تفصیل متعلقہ دور کی زبان اور رسم الخط میں بیان کی گئی ہے۔ 
یہ تاریخی مقام کرمانشاہ شہر سے 30 کلومیٹر کے فاصلے کے اندر "زاگرس" کے پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع ہے.بیستون کا شمار دنیا کے اہم ترین تاریخی اسناد میں ہوتا ہے.
بیستون کا تاریخی علاقہ 2006 میں یونسکو کی طرف سے عالمی ثقاقتی ورثہ کے فہرست میں رجسٹر کیا گیا ہے.
اس کتبہ کی اونچائی 7 میٹر اور 80 سینٹی میٹر ہے اور اس کی لمبائی 22 میٹر ہے جس کے مرکزمیں قدیم فارسی "میخی" رسم الخط پرمشتمل پانچ ستون، دیکھائی دیتی ہے. یہ قدیم فارسی متن مجموعی طور پر 525 لائنیں ہیں.
اس کتبہ میں تحریر کے علاوہ مختلف مناظر ہیں جو پھتروں پر نقوش میں پیش کیے گئے ہیں.ان میں داریوش کبیر کی شاندار کامیابیوں اور دشمنوں کے عجز و عزمیتوں کو دیکھایا گیا ہے.
ان نقوش کی اوپر "فروہر" کی علامت ہے اور دوسری طرف داریوش کبیر ہیں جو اپنے دائیں ہاتھ کو اہورمزدا کی ستائش کی علامت پر اٹھایا ہے اور بائیں پاؤں کو بے جان گوتاماگ کے سینے پر رکھا ہے.

وہ باغی جن کی ہاتھوں اور گردن رسی سے باندھتے ہوئے ہوئے ایک قطار میں داریوش کبیر کے سامنے کھرے ہیں.ایک سپیئر اور ایک آرچر بھی داریوش کے پیچھے دیکھائی دیتی ہیں.اس کتبے میں داریوش کبیر بنیادی طور اپنے آپ کی تعارف،باغیوں پر ان کی کامیابی اور ملک کے انتظام کے اصولوں طرف اشارہ کرتے ہیں. 
روس کے معروف ایران شناس "واسیلی بارتود" کا عقیدہ ہے کہ بیستون لفظ، دو لفظوں کا مجموعہ ہے؛ "بغ" کا معنی معبود کا ہے اور "ستان" جگہ کو کہتے ہیں، اسی طرح "بغستان" کا لغوی معنی "معبودوں کی جگہ" ہے جس کا پہلا تاریخی ذکر"جولیوس سیزر" کے زمانے میں ایک یونانی مؤرخ "دیودوروس سیکولوس" نامی کی کتاب میں تھا.اس کتاب میں "کتزیاس" کے بعض تحریریں،بیستون کے بارے میں ذکر ہوا ہے.
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ بیستون کتبہ،آشوری افسانوی رانی "سمیرامیس" کے حکم سے بنا کر "اہورا مزدا" کا پیش کش کیا گیا تھا. بیستون لفظ پہلوی زبان میں پہلے "بہیستان" کہا گیا تھا لیکن زمانے گزرنے کے ساتھ ساتھ "بہیستون" میں تبدیل ہوگیا.


٠٨:٢٩ - چهارشنبه ٤ مهر ١٣٩٧    /    شماره : ٧١٣١٢١    /    تعداد نمایش : ٤١


امتیازدهی

خروج




منو اصلی
آمار بازدید
 بازدید این صفحه : 83240 | بازدید امروز : 775 | کل بازدید : 528439 | بازدیدکنندگان آنلاين : 1 | زمان بازدید : 3.6563